غزل

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
مرزا غالب· Ghazal· 11 shers· radif: में

اس غزل میں غالب نے انسانی وقار، توکل اور رحمتِ الٰہی پر پختہ یقین کا اظہار کیا ہے۔ وہ ساقیِ کوثر کے کرم پر بھروسا کرتے ہوئے حال میں جینے کی تلقین کرتے ہیں اور انسان کے سابقہ بلند رتبے اور موجودہ بے وقعتی کے تضاد پر فکر انگیز انداز میں روشنی ڈالتے ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कल के लिए कर आज न ख़िस्सत शराब में ये सू-ए-ज़न है साक़ी-ए-कौसर के बाब में
کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
کل کی فکر کر کے آج شراب پینے میں کنجوسی نہ کرو۔ یہ اندیشہ ساقیِ کوثر کی سخاوت کے بارے میں بدگمانی کرنے کے مترادف ہے۔
2
हैं आज क्यूँ ज़लील कि कल तक न थी पसंद गुस्ताख़ी-ए-फ़रिश्ता हमारी जनाब में
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
آج ہم اس قدر ذلیل کیوں ہیں، جبکہ کل تک ہماری بارگاہ میں فرشتوں کی بھی ادنیٰ سی گستاخی گوارا نہیں کی جاتی تھی؟
3
जाँ क्यूँ निकलने लगती है तन से दम-ए-समा गर वो सदा समाई है चंग ओ रबाब में
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
اگر وہ آواز صرف چنگ اور رباب میں ہی سمائی ہوئی ہے، تو پھر سماع کے وقت جسم سے جان کیوں نکلنے لگتی ہے؟
4
रौ में है रख़्श-ए-उम्र कहाँ देखिए थमे ने हाथ बाग पर है न पा है रिकाब में
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
زندگی کا گھوڑا پوری تیزی سے دوڑ رہا ہے، دیکھیے کہاں جا کر رکتا ہے؛ نہ ہاتھ لگام پر ہے اور نہ ہی پاؤں رکاب میں ہے۔
5
उतना ही मुझ को अपनी हक़ीक़त से बोद है जितना कि वहम-ए-ग़ैर से हूँ पेच-ओ-ताब में
اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
میں اپنی حقیقت سے اتنا ہی دور ہوں جتنا کہ غیر کے وہم کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہوں۔
6
अस्ल-ए-शुहूद-ओ-शाहिद-ओ-मशहूद एक है हैराँ हूँ फिर मुशाहिदा है किस हिसाब में
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
جب دیکھنے والا، دکھائی دینے والی چیز اور دیکھنے کا عمل حقیقت میں ایک ہی ہیں، تو میں حیران ہوں کہ پھر یہ الگ مشاہدہ کس شمار میں آتا ہے۔
7
है मुश्तमिल नुमूद-ए-सुवर पर वजूद-ए-बहर याँ क्या धरा है क़तरा ओ मौज-ओ-हबाब में
ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
سمندر کا وجود تو صرف مختلف صورتوں کے ظاہر ہونے پر مشتمل ہے، ورنہ قطرے، لہر اور بلبلے کی اپنی کیا حقیقت ہے۔
8
शर्म इक अदा-ए-नाज़ है अपने ही से सही हैं कितने बे-हिजाब कि हैं यूँ हिजाब में
شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
شرم و حیا ایک دلکش ادا ہے چاہے وہ انسان کے اپنے آپ ہی سے کیوں نہ ہو، مگر وہ اس پردے میں رہ کر بھی کس قدر بے پردہ اور عیاں ہیں۔
9
आराइश-ए-जमाल से फ़ारिग़ नहीं हुनूज़ पेश-ए-नज़र है आइना दाइम नक़ाब में
آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوز پیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
محبوب ابھی تک اپنے حسن کو سنوارنے سے فارغ نہیں ہوا ہے، کیونکہ نقاب کے اندر بھی اس کی نظروں کے سامنے ہمیشہ ایک آئینہ رہتا ہے۔
10
है गै़ब-ए-ग़ैब जिस को समझते हैं हम शुहूद हैं ख़्वाब में हुनूज़ जो जागे हैं ख़्वाब में
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
جسے ہم ظاہر اور دیکھا ہوا سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مکمل طور پر پوشیدہ ہے؛ اور جو خواب کے اندر جاگ گئے ہیں، وہ دراصل ابھی بھی خواب ہی میں ہیں۔
11
'ग़ालिब' नदीम-ए-दोस्त से आती है बू-ए-दोस्त मश्ग़ूल-ए-हक़ हूँ बंदगी-ए-बू-तराब में
غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں
اے غالبؔ، دوست کے ساتھی سے ہی دوست کی خوشبو آتی ہے؛ میں بو تراب (حضرت علی) کی بندگی کے ذریعے دراصل حق تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.