“The witness, the witnessed, and the act of witnessing are essentially one; I wonder then, to what reckoning does perception belong?”
جب دیکھنے والا، دکھائی دینے والی چیز اور دیکھنے کا عمل حقیقت میں ایک ہی ہیں، تو میں حیران ہوں کہ پھر یہ الگ مشاہدہ کس شمار میں آتا ہے۔
غالب اس شعر میں وحدت الوجود کے عمیق راز کو چھیڑتے ہیں کہ اصل حقیقت میں دیکھنے والا، نظر آنے والا اور دیکھنے کا عمل سب ایک ہی ہستی کے مختلف روپ ہیں۔ مگر پھر وہ اپنی روایتی حیرت کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ اگر سب کچھ ایک ہی ہے، تو پھر یہ مشاہدے اور نظارے کا سارا کھیل کس کھاتے میں آتا ہے؟ یہ بظاہر سادہ نظر آنے والا شعر اصل میں کائنات اور ذات کے سب سے گہرے طلسم پر ایک پرلطف سوال ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
