“I am as far removed from the truth of my own reality, as I am twisted in torment by the illusion of the other.”
میں اپنی حقیقت سے اتنا ہی دور ہوں جتنا کہ غیر کے وہم کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہوں۔
یہ شعر انسان کے اندرونی انتشار اور غفلت کی بڑی گہری عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہم جتنا دنیاوی وسوسوں، غیروں کے خوف اور فریبِ نظر کے پیچ و تاب میں الجھتے ہیں، اتنے ہی اپنے اصل وجود اور سچی حقیقت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صوفیانہ انداز میں یہ دراصل خود آگاہی کا درس ہے کہ باطل کے وہم انسان کو اندر کے سچ سے محروم کر دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
