“Shyness is a coquettish grace, even if practiced before oneself; / how utterly exposed they stand, while cloaked within this veil.”
شرم و حیا ایک دلکش ادا ہے چاہے وہ انسان کے اپنے آپ ہی سے کیوں نہ ہو، مگر وہ اس پردے میں رہ کر بھی کس قدر بے پردہ اور عیاں ہیں۔
غالب اس شعر میں حیا اور پردے کا ایک دلکش تضاد بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ شرم محض کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ محبوب کا ایک نازک انداز اور ادائے دلبری ہے، خواہ وہ تنہائی میں اپنے آپ ہی سے کیوں نہ ہو۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ محبوب جتنا خود کو حجاب میں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے، اس کی یہی معصوم حیا اس کے حسن کو اتنا ہی نمایاں اور بے نقاب کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
