ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

“Why are we so disgraced today, when until yesterday was unbrooked / Even an angel's insolence before our noble presence?”

— مرزا غالب
معنی

آج ہم اس قدر ذلیل کیوں ہیں، جبکہ کل تک ہماری بارگاہ میں فرشتوں کی بھی ادنیٰ سی گستاخی گوارا نہیں کی جاتی تھی؟

تشریح

غالب اس شعر میں انسان کے عظیم ماضی اور موجودہ بے بسی کا بڑا دل فریب اور درد مندانہ موازنہ پیش کرتے ہیں۔ وہ تخلیقِ آدم کے اس واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جب انسان کا رتبہ اتنا بلند تھا کہ فرشتوں کو بھی اس کے سامنے معمولی سی گستاخی کی اجازت نہ تھی۔ شاعر شکوہ کناں ہے کہ جس انسان کے وقار کا یہ عالم تھا، وہ آج دنیا کے دکھوں اور محرومیوں میں اتنا بے توقیر اور خوار کیوں ہو گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.