کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں

“Be not stingy with wine today, saving it for tomorrow's need; to doubt the Cupbearer of Kausar is an ill thought indeed.”

— مرزا غالب
معنی

کل کی فکر کر کے آج شراب پینے میں کنجوسی نہ کرو۔ یہ اندیشہ ساقیِ کوثر کی سخاوت کے بارے میں بدگمانی کرنے کے مترادف ہے۔

تشریح

غالب اس شعر میں بڑے رندانہ اور پُراثر انداز میں سمجھاتے ہیں کہ کل کے اندیشوں میں گھل کر آج کی خوشیوں اور فیض کو سمیٹنے میں کنجوسی نہ برتو۔ 'شراب' دراصل زندگی کے سرور اور رب کی رحمت کا استعارہ ہے، اور 'ساقیِ کوثر' اس بے پایاں عطا و کرم کی علامت ہیں جس کا فیضان کبھی رکتا نہیں۔ آنے والے کل کی فکر کرنا، حقیقت میں ساقی کی لامحدود سخاوت اور فیاضی پر بدگمانی کرنے کے مترادف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 11Next →