جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

“Why does the soul begin to slip from the flesh at the hour of mystic audition, if that divine voice is merely confined within the harp and lute?”

— مرزا غالب
معنی

اگر وہ آواز صرف چنگ اور رباب میں ہی سمائی ہوئی ہے، تو پھر سماع کے وقت جسم سے جان کیوں نکلنے لگتی ہے؟

تشریح

اس شعر میں صوفیانہ سماع کی گہری تاثیر کا بڑا دل نشیں بیان ہے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ اگر یہ نغمہ صرف چنگ اور رباب کے مادی تاروں تک محدود ہے، تو پھر اسے سنتے ہی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرنے کے لیے کیوں مچل اٹھتی ہے؟ دراصل ساز سے اٹھنے والی یہ صدا کوئی معمولی دھن نہیں، بلکہ روزِ الست کی وہ پکار ہے جو روح کو اس کے اصل وطن کی یاد دلا کر تڑپا دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.