“What we perceive as manifest reality is the mystery of the unseen; they are still asleep in a dream who have awakened within a dream.”
جسے ہم ظاہر اور دیکھا ہوا سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مکمل طور پر پوشیدہ ہے؛ اور جو خواب کے اندر جاگ گئے ہیں، وہ دراصل ابھی بھی خواب ہی میں ہیں۔
مرزا غالب اس شعر میں حقیقت اور فریبِ نظر کے عمیق فلسفے کو کمال خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ جس کائنات کو ہم دیکھ کر عیاں اور سچ سمجھتے ہیں، درحقیقت وہ پردۂ غیب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ خواب کے اندر بیدار ہونے کی تشبیہ سے بتاتے ہیں کہ انسان اس فانی دنیا میں خود کو کتنا ہی ہوش مند سمجھے، وہ دراصل غفلت کے ایک اور خواب ہی میں مبتلا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
