“Not yet is she free from adorning her peerless grace; even beneath the veil, a mirror stays before her face.”
محبوب ابھی تک اپنے حسن کو سنوارنے سے فارغ نہیں ہوا ہے، کیونکہ نقاب کے اندر بھی اس کی نظروں کے سامنے ہمیشہ ایک آئینہ رہتا ہے۔
اس شعر میں محبوب کے ناز و نکھار اور اس کی دلکش خود پسندی کی بڑی خوبصورت تصویر کھینچی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ محبوب نے زمانے سے نین ملانے سے گریز کرتے ہوئے نقاب اوڑھ رکھا ہے، مگر اس پردے کے اندر بھی وہ آئینے سے نظریں نہیں ہٹاتا اور اپنے حسن کو سنوارنے میں مگن ہے۔ صوفیانہ انداز میں دیکھیں تو یہ اشارہ اس حسنِ ازل کی طرف ہے جو پردہِ غیب میں رہ کر بھی ہر پل اپنے ہی جاہ و جلال کا دیدار کر رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
