“O Ghalib, from the Friend's confidant wafts the fragrance of the Friend; I am absorbed in the Divine Truth through devotion to Abu Turab.”
اے غالبؔ، دوست کے ساتھی سے ہی دوست کی خوشبو آتی ہے؛ میں بو تراب (حضرت علی) کی بندگی کے ذریعے دراصل حق تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوں۔
اس شعر میں غالب حضرت علیؓ یعنی بو تراب سے اپنی قلبی عقیدت اور گہری روحانی وابستگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ دوست کے قریبی ساتھی سے بھی خود دوست کی خوشبو مہکتی ہے، یعنی حضرت علیؓ کی محبت اور بندگی کے راستے پر چل کر دراصل اللہ تعالیٰ کا قرب ہی نصیب ہوتا ہے۔ یہ تصوف کا وہ لطیف انداز ہے جہاں ولی کی قربت انسان کو ذاتِ حق کے مشاہدے اور معرفت میں غرق کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
