“The ocean's being rests upon the manifestation of forms; what independent essence lies in bubble, wave, or drop?”
سمندر کا وجود تو صرف مختلف صورتوں کے ظاہر ہونے پر مشتمل ہے، ورنہ قطرے، لہر اور بلبلے کی اپنی کیا حقیقت ہے۔
غالب اس شعر میں سمندر اور اس کے مظاہر کی دلکش مثال دے کر وحدت الوجود کا گہرا راز سمجھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قطرہ، موج اور بلبلہ بظاہر جدا نظر آتے ہیں، مگر اصل میں ان کی اپنی کوئی الگ ہستی نہیں، یہ سب بس اسی ایک بحرِ بیکراں کے روپ ہیں۔ بالکل اسی طرح کائنات کے تمام رنگ اور ہماری انفرادی انا درحقیقت اسی ایک ذاتِ واحد کا پرتو ہیں جس کے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
