غزل
زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
اس غزل میں شاعر زاہد کی تنگ نظری پر چوٹ کرتے ہوئے مستانوں اور دیوانوں کی سچائی اور بے خودی کا پرخلوص دفاع کرتا ہے۔ طنزیہ اور فکر انگیز لہجے میں یہ کلام انسانی فطرت کے تضادات اور غیروں کی ناپائیدار رفاقت کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ज़ाहिद न कह बुरी कि ये मस्ताने आदमी हैं
तुझ को लिपट पड़ेंगे दीवाने आदमी हैं
زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
تجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیں
اے زاہد! ان مستانوں کو برا مت کہہ، کیونکہ یہ دیوانے لوگ ہیں اور تجھ سے لپٹ پڑیں گے۔
2
ग़ैरों की दोस्ती पर क्यूँ ए'तिबार कीजे
ये दुश्मनी करेंगे बेगाने आदमी हैं
غیروں کی دوستی پر کیوں اعتبار کیجے
یہ دشمنی کریں گے بیگانے آدمی ہیں
غیروں کی دوستی پر کیوں بھروسا کیا جائے؟ وہ تو آگے چل کر دشمنی ہی کریں گے کیونکہ وہ پرائے لوگ ہیں۔
3
जो आदमी पे गुज़री वो इक सिवा तुम्हारे
क्या जी लगा के सुनते अफ़्साने आदमी हैं
جو آدمی پہ گزری وہ اک سوا تمہارے
کیا جی لگا کے سنتے افسانے آدمی ہیں
صرف آپ کے علاوہ، انسان پر جو کچھ بیتی ہے لوگ اس کے افسانے کو کتنے شوق اور توجہ سے سنتے ہیں۔
4
क्या जुरअतें जो हम को दरबाँ तुम्हारा टोके
कह दो कि ये तो जाने-पहचाने आदमी हैं
کیا جرأتیں جو ہم کو درباں تمہارا ٹوکے
کہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے آدمی ہیں
تمہارے دربان کی یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ ہمیں روکے؟ اس سے کہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے آدمی ہیں۔
5
मय बूँद भर पिला कर क्या हँस रहा है साक़ी
भर भर के पीते आख़िर पैमाने आदमी हैं
مے بوند بھر پلا کر کیا ہنس رہا ہے ساقی
بھر بھر کے پیتے آخر پیمانے آدمی ہیں
اے ساقی، صرف ایک بوند شراب پلا کر تو کیوں ہنس رہا ہے؟ آخر کار انسان ہی تو بھر بھر کر جام پیتے ہیں۔
6
तुम ने हमारे दिल में घर कर लिया तो क्या है
आबाद करते आख़िर वीराने आदमी हैं
تم نے ہمارے دل میں گھر کر لیا تو کیا ہے
آباد کرتے آخر ویرانے آدمی ہیں
اگر تم نے ہمارے دل میں گھر بنا لیا ہے تو اس میں کیا بڑی بات ہے؟ آخرکار ویرانوں کو بھی انسان ہی آباد کرتے ہیں۔
7
नासेह से कोई कह दे कीजे कलाम ऐसा
हज़रत को ता कि कोई ये जाने आदमी हैं
ناصح سے کوئی کہہ دے کیجے کلام ایسا
حضرت کو تا کہ کوئی یہ جانے آدمی ہیں
کوئی نصیحت کرنے والے سے کہہ دے کہ وہ ایسی بات کرے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ وہ بھی ایک انسان ہے۔
8
जब दावर-ए-क़यामत पूछेगा तुम पे रख कर
कह देंगे साफ़ हम तो बेगाने आदमी हैं
جب داور قیامت پوچھے گا تم پہ رکھ کر
کہہ دیں گے صاف ہم تو بیگانے آدمی ہیں
جب روزِ محشر خدا مجھ سے تمہارے بارے میں سوال کرے گا، تو ہم صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو بالکل انجان اور اجنبی لوگ ہیں۔
9
मैं वो बशर कि मुझ से हर आदमी को नफ़रत
तुम शम्अ वो कि तुम पर परवाने आदमी हैं
میں وہ بشر کہ مجھ سے ہر آدمی کو نفرت
تم شمع وہ کہ تم پر پروانے آدمی ہیں
میں ایسا انسان ہوں جس سے ہر شخص نفرت کرتا ہے، جبکہ تم ایسی شمع ہو جس پر لوگ پروانوں کی طرح فدا ہوتے ہیں۔
10
महफ़िल भरी हुई है सौदाइयों से उस की
उस ग़ैरत-ए-परी पर दीवाने आदमी हैं
محفل بھری ہوئی ہے سودائیوں سے اس کی
اس غیرت پری پر دیوانے آدمی ہیں
اس کی محفل اس کے دیوانوں سے بھری ہوئی ہے، کیونکہ پریوں کو شرما دینے والی اس خوبصورت پر لوگ پاگل ہو رہے ہیں۔
11
शाबाश 'दाग़' तुझ को क्या तेग़-ए-इश्क़ खाई
जी करते हैं वही जो मर्दाने आदमी हैं
شاباش داغؔ تجھ کو کیا تیغ عشق کھائی
جی کرتے ہیں وہی جو مردانے آدمی ہیں
شاباش ہے داغ تجھ پر کہ تو نے عشق کی تلوار کا وار کیا خوب جھیلا؛ ایسی ہمت اور حوصلہ صرف وہی لوگ دکھاتے ہیں جو سچے اور بہادر مرد ہوتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
