ناصح سے کوئی کہہ دے کیجے کلام ایسا — داغ دہلوی

ناصح سے کوئی کہہ دے کیجے کلام ایسا حضرت کو تا کہ کوئی یہ جانے آدمی ہیں

“Let someone tell the counselor to speak in such a way, so that at least one might believe his reverence is human.”

— داغ دہلوی

معنی

کوئی نصیحت کرنے والے سے کہہ دے کہ وہ ایسی بات کرے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ وہ بھی ایک انسان ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر بڑی خوبصورتی اور ظرافت کے ساتھ پند و نصیحت کرنے والے ناصح پر ایک پیارا سا طنز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت واعظ کا انداز اتنا خشک، بے لچک اور پارسائی سے بھرا ہے کہ لگتا ہی نہیں وہ بھی ہمارے جیسے خطاکار انسان ہیں۔ اس لیے کوئی ان سے کہے کہ گفتگو میں ذرا نرمی اور درد لائیں، تاکہ کم از کم ان کی باتوں سے یہ تو ثابت ہو سکے کہ وہ کوئی فرشتہ نہیں بلکہ گوشت پوست کے بنے ایک عام آدمی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.