جب داور قیامت پوچھے گا تم پہ رکھ کر — داغ دہلوی

جب داور قیامت پوچھے گا تم پہ رکھ کر کہہ دیں گے صاف ہم تو بیگانے آدمی ہیں

“When on Judgment Day the Arbiter inquires, placing the blame on you, I shall simply say: 'We are merely strangers, after all.'”

— داغ دہلوی

معنی

جب روزِ محشر خدا مجھ سے تمہارے بارے میں سوال کرے گا، تو ہم صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو بالکل انجان اور اجنبی لوگ ہیں۔

تشریح

اس شعر میں محبت کی ایسی بے لوث قربانی اور وفا دکھائی گئی ہے جو دل کو چھو لیتی ہے۔ روزِ حشر جب خدا محبوب سے عاشق کے مٹنے اور برباد ہونے کا سبب پوچھے گا، تو عاشق شکوہ کرنے کے بجائے محبوب کو بچانے کی خاطر خود کو اجنبی ظاہر کر دے گا۔ بظاہر اس سادگی اور بیگانگی کے پردے میں وہ لازوال عشق چھپا ہے جو قیامت کی سخت عدالت میں بھی اپنے محبوب پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.