شاباش داغؔ تجھ کو کیا تیغ عشق کھائی — داغ دہلوی
“Well done, O Dagh! How bravely you bore the sword of love; for only men of true valor possess such a daring heart.”
معنی
شاباش ہے داغ تجھ پر کہ تو نے عشق کی تلوار کا وار کیا خوب جھیلا؛ ایسی ہمت اور حوصلہ صرف وہی لوگ دکھاتے ہیں جو سچے اور بہادر مرد ہوتے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں داغؔ خود کو داد دیتے ہوئے عشق کی چوٹ کو ایک بہادر سپاہی کے تمغے کی طرح فخر سے پیش کرتے ہیں۔ وہ عشق کو ایک تیز تلوار سے تشبیہ دیتے ہیں جس کا وار برداشت کرنا ہر عام انسان کے بس کا روگ نہیں۔ داغؔ بڑی خوبصورتی سے سمجھاتے ہیں کہ محبت میں دل ہارنا کمزوری نہیں، بلکہ یہ تو بے پناہ ہمت اور سچے حوصلے کا امتحان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
