غزل

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
داغ دہلوی· Ghazal· 11 shers· radif: से मिलता है

یہ غزل سچی محبت کے المیے اور محبوب کی بے رخی کو بیان کرتی ہے، جہاں خلوصِ دل سے چاہنے والے کو ہی خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ شاعر نے زندگی اور عشق کے تضادات کو پیش کرتے ہوئے مخلص عاشق کی نایابی اور اس کے درد کو پُراثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
मिलाते हो उसी को ख़ाक में जो दिल से मिलता है मिरी जाँ चाहने वाला बड़ी मुश्किल से मिलता है
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
تم اسی کو برباد کر دیتے ہو جو تم سے سچے دل سے ملتا ہے؛ اے میری جان، سچا چاہنے والا بہت مشکل سے ملتا ہے۔
2
कहीं है ईद की शादी कहीं मातम है मक़्तल में कोई क़ातिल से मिलता है कोई बिस्मिल से मिलता है
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
کہیں عید کی خوشی منائی جا رہی ہے تو کہیں مقتل میں ماتم برپا ہے؛ کوئی قاتل سے مل رہا ہے اور کوئی تڑپتے ہوئے شکار سے مل رہا ہے۔
3
पस-ए-पर्दा भी लैला हाथ रख लेती है आँखों पर ग़ुबार-ए-ना-तवान-ए-क़ैस जब महमिल से मिलता है
پس پردہ بھی لیلیٰ ہاتھ رکھ لیتی ہے آنکھوں پر غبار ناتوان قیس جب محمل سے ملتا ہے
جب ناتواں قیس (مجنوں) کی گرد لیلیٰ کے محمل سے ٹکراتی ہے، تو وہ پردے کے پیچھے ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی ہے۔
4
भरे हैं तुझ में वो लाखों हुनर ऐ मजमा-ए-ख़ूबी मुलाक़ाती तिरा गोया भरी महफ़िल से मिलता है
بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی ملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے
اے خوبیوں کے مجموعے! تجھ میں بے شمار ہنر بھرے ہیں، اس لیے جو شخص تجھ سے ملتا ہے اسے لگتا ہے گویا وہ کسی بھری محفل سے مل رہا ہو۔
5
मुझे आता है क्या क्या रश्क वक़्त-ए-ज़ब्ह उस से भी गला जिस दम लिपट कर ख़ंजर-ए-क़ातिल से मिलता है
مجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقت ذبح اس سے بھی گلا جس دم لپٹ کر خنجر قاتل سے ملتا ہے
ذبح ہوتے وقت بھی مجھے اس پر کتنا رشک آتا ہے جب گلا لپٹ کر قاتل کے خنجر سے ملتا ہے۔
6
ब-ज़ाहिर बा-अदब यूँ हज़रत-ए-नासेह से मिलता हूँ मुरीद-ए-ख़ास जैसे मुर्शिद-ए-कामिल से मिलता है
بظاہر با ادب یوں حضرت ناصح سے ملتا ہوں مرید خاص جیسے مرشد کامل سے ملتا ہے
ظاہری طور پر میں ناصح سے اس قدر ادب و احترام کے ساتھ ملتا ہوں، جیسے کوئی خاص مرید اپنے کامل پیر سے ملتا ہے۔
7
मिसाल-ए-गंज-ए-क़ारूँ अहल-ए-हाजत से नहीं छुपता जो होता है सख़ी ख़ुद ढूँड कर साइल से मिलता है
مثال گنج قاروں اہل حاجت سے نہیں چھپتا جو ہوتا ہے سخی خود ڈھونڈ کر سائل سے ملتا ہے
سخی انسان قارون کے خزانے کی طرح ضرورت مندوں سے چھپ کر نہیں رہتا، بلکہ وہ خود مانگنے والے کو تلاش کر کے اس سے ملتا ہے۔
8
जवाब इस बात का उस शोख़ को क्या दे सके कोई जो दिल ले कर कहे कम-बख़्त तू किस दिल से मिलता है
جواب اس بات کا اس شوخ کو کیا دے سکے کوئی جو دل لے کر کہے کم بخت تو کس دل سے ملتا ہے
کوئی اس شوخ محبوب کو کیا جواب دے جو خود دل چھین لینے کے بعد پوچھے کہ اے کم بخت، اب تو کس دل سے ملنے آتا ہے۔
9
छुपाए से कोई छुपती है अपने दिल की बेताबी कि हर तार-ए-नफ़स अपना रग-ए-बिस्मिल से मिलता है
چھپائے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابی کہ ہر تار نفس اپنا رگ بسمل سے ملتا ہے
کیا چھپانے سے دل کی بے قراری کبھی چھپ سکتی ہے؟ کیونکہ میری سانس کا ہر ایک تار تڑپتے ہوئے بسمل کی رگ کی مانند ہے۔
10
अदम की जो हक़ीक़त है वो पूछो अहल-ए-हस्ती से मुसाफ़िर को तो मंज़िल का पता मंज़िल से मिलता है
عدم کی جو حقیقت ہے وہ پوچھو اہل ہستی سے مسافر کو تو منزل کا پتا منزل سے ملتا ہے
عدم کی اصل حقیقت زندہ لوگوں سے پوچھنی چاہیے، کیونکہ مسافر کو منزل کا پتا صرف منزل پر پہنچنے کے بعد ہی ملتا ہے۔
11
ग़ज़ब है 'दाग़' के दिल से तुम्हारा दिल नहीं मिलता तुम्हारा चाँद सा चेहरा मह-ए-कामिल से मिलता है
غضب ہے داغؔ کے دل سے تمہارا دل نہیں ملتا تمہارا چاند سا چہرہ مہ کامل سے ملتا ہے
یہ بڑی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ آپ کا دل داغ کے دل سے نہیں ملتا، حالانکہ آپ کا چاند جیسا چہرہ چودھویں کے چاند سے مشابہت رکھتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.