چھپائے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابی — داغ دہلوی
“Can one ever truly hide the restless turmoil of the heart, when every thread of my breath throbs like the severed vein of a slaughtered prey?”
معنی
کیا چھپانے سے دل کی بے قراری کبھی چھپ سکتی ہے؟ کیونکہ میری سانس کا ہر ایک تار تڑپتے ہوئے بسمل کی رگ کی مانند ہے۔
تشریح
شاعر کہتے ہیں کہ دل کی بے چینی اور اضطراب کو لاکھ جتن کر کے بھی چھپانا ممکن نہیں۔ یہاں سانس کی لڑی کو ذبح ہوتے ہوئے پرندے کی پھڑکتی ہوئی رگ (رگِ بسمل) سے تشبیہ دی گئی ہے، جس میں بے پناہ تڑپ ہے۔ یہ شعر ہجر اور عشق کے اس عالم کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جہاں انسان خاموش بھی رہے، تو اس کی ہر اکھڑتی ہوئی سانس دل کے تمام راز فاش کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
