غضب ہے داغؔ کے دل سے تمہارا دل نہیں ملتا — داغ دہلوی
“How strange that with the heart of 'Dagh' your heart does not unite, though your moon-like face perfectly matches the full moon's light.”
معنی
یہ بڑی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ آپ کا دل داغ کے دل سے نہیں ملتا، حالانکہ آپ کا چاند جیسا چہرہ چودھویں کے چاند سے مشابہت رکھتا ہے۔
تشریح
داغ دہلوی اس شعر میں لفظ 'ملنا' کے خوبصورت تلازمے اور دہرے معنی سے لطف پیدا کر رہے ہیں، یعنی صورت کی مشابہت اور دلوں کا جڑنا۔ وہ اپنے محبوب سے ایک شوخ اور دلنشین شکوہ کرتے ہیں کہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ تمہارا نورانی چہرہ تو چودھویں کے چاند سے کمال درجہ ملتا ہے، مگر تمہارا دل میرے دل سے بالکل نہیں ملتا۔ اس میں محبوب کے حسن کی والہانہ تعریف بھی ہے اور ایک بے بس عاشق کا میٹھا سا گلہ بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
