پس پردہ بھی لیلیٰ ہاتھ رکھ لیتی ہے آنکھوں پر — داغ دہلوی
“Even behind the veil, Laila covers her eyes with her hand, whenever the feeble dust of Qais comes brushing against her litter.”
معنی
جب ناتواں قیس (مجنوں) کی گرد لیلیٰ کے محمل سے ٹکراتی ہے، تو وہ پردے کے پیچھے ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی ہے۔
تشریح
یہ شعر عشق کی شدت اور مجنوں کی فنائیت کا ایک بے حد دردناک اور لطیف منظر پیش کرتا ہے۔ قیس صحرا میں گھل گھل کر اس حد تک مٹ چکا ہے کہ اب وہ محض ایک کمزور سا غبار بن کر لیلیٰ کے محمل سے چھوتا ہے۔ لیلیٰ پردے کے پیچھے ہونے کے باوجود بے اختیار آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی ہے—ظاہراً تو گرد سے بچنے کے لیے، مگر درحقیقت وہ اپنے مٹتے ہوئے عاشق کے اس المیے کو پہچان کر درد اور شرم سے اپنی آنکھیں چھپا لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
