مجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقت ذبح اس سے بھی — داغ دہلوی
“What envy grips my heart, even at the hour of slaughter, when the neck clings in embrace to the slayer's dagger!”
معنی
ذبح ہوتے وقت بھی مجھے اس پر کتنا رشک آتا ہے جب گلا لپٹ کر قاتل کے خنجر سے ملتا ہے۔
تشریح
عشق کی وارفتگی کا یہ کمال دیکھیے کہ عاشق موت کے دہانے پر بھی غیرت اور رشک میں مبتلا ہے۔ جب محبوب کا خنجر گلے پر چلتا ہے تو شاعر کو وہ ذبح ہونا نہیں بلکہ ایک گلے ملنے کا والہانہ لمس معلوم ہوتا ہے۔ وہ خود اپنے گلے یا اس خنجر پر رشک کرتا ہے کہ قاتلِ دلنواز کا ایسا قرب اور وصال اس کی روح کے بجائے اس خنجر اور گلے کے ملاپ کے حصے میں آ رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
