کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں — داغ دہلوی

کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے

“Somewhere reigns the joy of Eid, somewhere mourning in the slaughterground; one goes to meet the slayer, another embraces the slain.”

— داغ دہلوی

معنی

کہیں عید کی خوشی منائی جا رہی ہے تو کہیں مقتل میں ماتم برپا ہے؛ کوئی قاتل سے مل رہا ہے اور کوئی تڑپتے ہوئے شکار سے مل رہا ہے۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں زندگی اور عشق کے دو متضاد رنگوں کو کمال خوبصورتی سے یکجا کیا ہے، جہاں ایک طرف عید کی خوشیاں ہیں تو دوسری طرف مقتل کا سوگ۔ یہ شعر دنیا کے عجیب تماشے کو ظاہر کرتا ہے کہ کچھ لوگ ستم گر کے پہلو میں بیٹھ کر جشن مناتے ہیں، جبکہ کچھ ان دل فگار عاشقوں کا غم بانٹتے ہیں جو قربان ہو چکے ہیں۔ دراصل یہ مسرت اور الم، ظالم اور مظلوم کے درمیان بٹے ہوئے انسانی نصیب کی ایک گہری عکاسی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.