غزل
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
یہ غزل عشق کے روحانی اور صوفیانہ پہلو کو پیش کرتی ہے، جس میں عاشق کو چین و قرار کھو جانے کا کوئی ملال نہیں اور غمِ عشق ہی اس کا اصل ہمدم بن جاتا ہے۔ اپنی خودی اور انا کو مٹا کر محبوب اور عاشق کے درمیان کا حجاب دور ہو جاتا ہے، جس سے ہر سو صرف محبوبِ حقیقی کا جلوہ باقی رہ جاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
नहीं इश्क़ में इस का तो रंज हमें कि क़रार ओ शकेब ज़रा न रहा
ग़म-ए-इश्क़ तो अपना रफ़ीक़ रहा कोई और बला से रहा न रहा
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
غم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا
ہمیں عشق میں اس بات کا کوئی دکھ نہیں ہے کہ دل کا چین اور صبر بالکل ختم ہو گیا۔ محبت کا غم تو ہمارا ساتھی بنا رہا، اب کوئی اور ساتھ رہا یا نہ رہا، اس کی کوئی پروا نہیں۔
2
दिया अपनी ख़ुदी को जो हम ने उठा वो जो पर्दा सा बीच में था न रहा
रहे पर्दे में अब न वो पर्दा-नशीं कोई दूसरा उस के सिवा न रहा
دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا
رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا
جب میں نے اپنی خودی یعنی انا کو مٹا دیا تو ہمارے درمیان حائل پردہ ختم ہو گیا۔ اب وہ پردہ نشیں بھی پردے میں نہیں رہا، کیونکہ اب اس کے سوا کوئی دوسرا باقی ہی نہیں رہا۔
3
न थी हाल की जब हमें ख़बर रहे देखते औरों के ऐब ओ हुनर
पड़ी अपनी बुराइयों पर जो नज़र तो निगाह में कोई बुरा न रहा
نہ تھی حال کی جب ہمیں خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
جب تک مجھے اپنی حالت کی خبر نہیں تھی میں دوسروں کے عیب اور ہنر دیکھتا رہا، لیکن جب میری نظر اپنی برائیوں پر پڑی تو میری نگاہ میں کوئی بھی برا نہ رہا۔
4
तिरे रुख़ के ख़याल में कौन से दिन उठे मुझ पे न फ़ित्ना-ए-रोज़-ए-जज़ा
तिरी ज़ुल्फ़ के ध्यान में कौन सी शब मिरे सर पे हुजूम-ए-बला न रहा
ترے رخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنۂ روز جزا
تری زلف کے دھیان میں کون سی شب مرے سر پہ ہجوم بلا نہ رہا
کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب تمہارے چہرے کے خیال میں مجھ پر قیامت جیسی مصیبت نہ ٹوٹی ہو، اور کوئی ایسی رات نہیں رہی جب تمہاری زلفوں کی یاد میں میرے سر پر بلاؤں اور مصیبتوں کا ہجوم نہ رہا ہو۔
5
हमें साग़र-ए-बादा के देने में अब करे देर जो साक़ी तो हाए ग़ज़ब
कि ये अहद-ए-नशात ये दौर-ए-तरब न रहेगा जहाँ में सदा न रहा
ہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب
کہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا
اگر ساقی اب ہمیں شراب کا پیالہ دینے میں تاخیر کرے تو بڑا غضب ہوگا، کیونکہ خوشی اور مسرت کا یہ زمانہ دنیا میں نہ کبھی ہمیشہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔
6
कई रोज़ में आज वो मेहर-लिक़ा हुआ मेरे जो सामने जल्वा-नुमा
मुझे सब्र ओ क़रार ज़रा न रहा उसे पास-ए-हिजाब-ओ-हया न रहा
کئی روز میں آج وہ مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نما
مجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا
کئی دنوں کے بعد آج جب وہ سورج جیسے چہرے والا محبوب میرے سامنے جلوہ گر ہوا، تو نہ مجھ میں ذرا بھی صبر و قرار رہا اور نہ ہی اُسے شرم و حیا کا کوئی پاس رہا۔
7
तिरे ख़ंजर ओ तेग़ की आब-ए-रवाँ हुई जब कि सबील-ए-सितम-ज़दगाँ
गए कितने ही क़ाफ़िले ख़ुश्क-ज़बाँ कोई तिश्ना-ए-आब-ए-बक़ा न रहा
ترے خنجر و تیغ کی آب رواں ہوئی جب کہ سبیل ستم زدگاں
گئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنۂ آب بقا نہ رہا
جب تیرے خنجر اور تلوار کی دھار کا پانی مظلوموں کے لیے سبیل بن گیا، تو کتنے ہی قافلے خشک زبان لیے رخصت ہو گئے اور کوئی بھی آبِ بقا کا پیاسا نہ رہا۔
8
मुझे साफ़ बताए निगार अगर तो ये पूछूँ मैं रो रो के ख़ून-ए-जिगर
मले पाँव से किस के हैं दीदा-ए-तर कफ़-ए-पा पे जो रंग-ए-हिना न रहा
مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگر
ملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگ حنا نہ رہا
اگر میرا محبوب مجھے صاف صاف بتا دے تو میں خون کے آنسو روتے ہوئے یہ پوچھوں کہ کس کی نم آنکھیں آپ کے قدموں پر رگڑی گئی ہیں کہ آپ کے تلووں پر مہندی کا رنگ باقی نہیں رہا۔
9
उसे चाहा था मैं ने कि रोक रखूँ मिरी जान भी जाए तो जाने न दूँ
किए लाख फ़रेब करोड़ फ़ुसूँ न रहा न रहा न रहा न रहा
اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں
کئے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا
میں نے چاہا تھا کہ اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اسے روک لوں اور جانے نہ دوں۔ میں نے لاکھ فریب اور کروڑوں جادو ٹونے کیے، مگر پھر بھی وہ نہ رکا۔
10
लगे यूँ तो हज़ारों ही तीर-ए-सितम कि तड़पते रहे पड़े ख़ाक पे हम
वले नाज़ ओ करिश्मा की तेग़-ए-दो-दम लगी ऐसी कि तस्मा लगा न रहा
لگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم
ولے ناز و کرشمہ کی تیغ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا
یوں تو ہم پر ظلم و ستم کے ہزاروں تیر لگے جس سے ہم خاک پر تڑپتے رہے، لیکن محبوب کے ناز و ادا کی دودھاری تلوار ایسی لگی کہ جسم کا کوئی رشتہ بھی جڑا نہ رہا۔
11
'ज़फ़र' आदमी उस को न जानिएगा वो हो कैसा ही साहब-ए-फ़हम-ओ-ज़का
जिसे ऐश में याद-ए-ख़ुदा न रही जिसे तैश में ख़ौफ़-ए-ख़ुदा न रहा
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
اے ظفر، اس شخص کو انسان مت سمجھیے چاہے وہ کتنا ہی عقل مند اور دانشمند کیوں نہ ہو، جو خوشی و عیش میں خدا کو یاد نہ رکھے اور غصے کی حالت میں خدا سے نہ ڈرے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
