ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

“Do not deem him human, O Zafar, no matter how wise or discerning he may be; who remembers not God in moments of pleasure, and fears not God in fits of fury.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اے ظفر، اس شخص کو انسان مت سمجھیے چاہے وہ کتنا ہی عقل مند اور دانشمند کیوں نہ ہو، جو خوشی و عیش میں خدا کو یاد نہ رکھے اور غصے کی حالت میں خدا سے نہ ڈرے۔

تشریح

بہادر شاہ ظفرؔ اس شعر میں سچی انسانیت کا ایک گہرا اور دل نشین معیار بیان کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی دانا اور ذہین کیوں نہ ہو، اس کا اصل امتحان خوشی اور غصے کی انتہاؤں پر ہوتا ہے۔ اگر انسان عیش و نشاط میں خدا کی یاد اور شکر گزاری بھول جائے اور غضب کے عالم میں اپنے ضمیر اور خوفِ خدا کو کھو بیٹھے، تو وہ درحقیقت انسان کہلانے کے لائق نہیں رہتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev11 / 11