ترے خنجر و تیغ کی آب رواں ہوئی جب کہ سبیل ستم زدگاں گئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنۂ آب بقا نہ رہا

“When the gleaming blade of your sword became a fountain for the oppressed, countless caravans departed with parched tongues, yet none remained thirsting for eternal life.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جب تیرے خنجر اور تلوار کی دھار کا پانی مظلوموں کے لیے سبیل بن گیا، تو کتنے ہی قافلے خشک زبان لیے رخصت ہو گئے اور کوئی بھی آبِ بقا کا پیاسا نہ رہا۔

تشریح

شاعر نے یہاں لفظ 'آب' کے دوہرے مفہوم—یعنی تلوار کی چمک اور پیاس بجھانے والے پانی—کو کمال خوبصورتی سے برتا ہے۔ جب ستم گر کے خنجر کی دھار مظلوم عاشقوں کے لیے سیرابی کی سبیل بنی، تو اگرچہ قافلے پیاسے ہونٹوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے، مگر جامِ شہادت پی کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ محبوب کے ہاتھوں جان گنوا دینے کے بعد اب انہیں آبِ حیات پینے کی کوئی آرزو باقی نہ رہی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.