“When the gleaming blade of your sword became a fountain for the oppressed, countless caravans departed with parched tongues, yet none remained thirsting for eternal life.”
جب تیرے خنجر اور تلوار کی دھار کا پانی مظلوموں کے لیے سبیل بن گیا، تو کتنے ہی قافلے خشک زبان لیے رخصت ہو گئے اور کوئی بھی آبِ بقا کا پیاسا نہ رہا۔
شاعر نے یہاں لفظ 'آب' کے دوہرے مفہوم—یعنی تلوار کی چمک اور پیاس بجھانے والے پانی—کو کمال خوبصورتی سے برتا ہے۔ جب ستم گر کے خنجر کی دھار مظلوم عاشقوں کے لیے سیرابی کی سبیل بنی، تو اگرچہ قافلے پیاسے ہونٹوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے، مگر جامِ شہادت پی کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ محبوب کے ہاتھوں جان گنوا دینے کے بعد اب انہیں آبِ حیات پینے کی کوئی آرزو باقی نہ رہی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
