“On which day, dreaming of your face, did Judgment Day's turmoil not rise upon me? On which night, lost in thought of your dark tresses, did a host of calamities not hover over my head?”
کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب تمہارے چہرے کے خیال میں مجھ پر قیامت جیسی مصیبت نہ ٹوٹی ہو، اور کوئی ایسی رات نہیں رہی جب تمہاری زلفوں کی یاد میں میرے سر پر بلاؤں اور مصیبتوں کا ہجوم نہ رہا ہو۔
اس شعر میں شاعر نے کمال کا حسنِ تضاد اور رعایتِ لفظی برتی ہے، جہاں محبوب کے روشن رخسار کو دن اور اس کی سیاہ زلفوں کو رات کے استعارے سے جوڑا گیا ہے۔ عاشق کا حال یہ ہے کہ دن میں محبوب کے چہرے کا تصور روزِ جزا کی طرح حشر برپا کر دیتا ہے، اور رات کو اس کی زلفوں کا دھیان مصیبتوں کے ہجوم کی شکل میں سر پر چھا جاتا ہے۔ عشق کے اس سفر میں عاشق کو نہ دن کو قرار نصیب ہے اور نہ رات کو چین؛ زندگی کا ہر لمحہ ایک دلکش اضطراب بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
