لگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم ولے ناز و کرشمہ کی تیغ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا

“Though thousands of cruelty’s arrows struck, leaving us writhing low in the dust, the two-edged blade of her coquettish charm struck so clean that not a sinew held us fast.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

یوں تو ہم پر ظلم و ستم کے ہزاروں تیر لگے جس سے ہم خاک پر تڑپتے رہے، لیکن محبوب کے ناز و ادا کی دودھاری تلوار ایسی لگی کہ جسم کا کوئی رشتہ بھی جڑا نہ رہا۔

تشریح

شاعر نے یہاں محبت میں ملنے والی مسلسل اذیت اور محبوب کی دلکش اداؤں کے قاتلانہ وار کا بڑا پرلطف موازنہ کیا ہے۔ ستم کے تیروں نے تو عاشق کو خاک پر تڑپنے کے لیے نیم بسمل چھوڑ رکھا تھا، مگر محبوب کے ناز و کرشمہ کی دو دھاری تلوار نے ایسا کاری وار کیا کہ ایک ہی لمحے میں سب فیصلہ ہو گیا۔ محاورہ 'تسمہ لگا نہ رہا' کا مطلب یہ ہے کہ کوئی رشتہ یا جوڑ باقی نہ بچا؛ یعنی اس قاتل ادا نے عاشق کو تڑپنے کا موقع دیے بغیر پلک جھپکتے ہی اس کا کام تمام کر دیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.