ہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب کہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا

“If the cupbearer now delays in serving the cup of wine, alas, what tragedy! For this era of delight and season of mirth shall not remain in the world forever, as it never did.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگر ساقی اب ہمیں شراب کا پیالہ دینے میں تاخیر کرے تو بڑا غضب ہوگا، کیونکہ خوشی اور مسرت کا یہ زمانہ دنیا میں نہ کبھی ہمیشہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔

تشریح

شاعر یہاں زندگی کی ناپائیداری اور خوشی کے چند لمحوں کے جلد گزر جانے کا گہرا درد بیان کر رہا ہے۔ ساقی کی جانب سے جام بھرنے میں تاخیر دراصل اس خوف کی علامت ہے کہ کہیں نشاط و سرور کا یہ وقت ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ مسرت اور جشن کا زمانہ کبھی سدا کے لیے نہیں رہتا، اس لیے ملے ہوئے انمول لمحوں کو ضائع کیے بغیر جی بھر کے جینا ہی اصل زندگی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.