نہ تھی حال کی جب ہمیں خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

“So long as I was blind to my own state, I weighed the faults and virtues of others; yet when my gaze turned upon my own flaws, none in my eyes remained wicked.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جب تک مجھے اپنی حالت کی خبر نہیں تھی میں دوسروں کے عیب اور ہنر دیکھتا رہا، لیکن جب میری نظر اپنی برائیوں پر پڑی تو میری نگاہ میں کوئی بھی برا نہ رہا۔

تشریح

یہ شعر خود شناسی اور انکساری کا ایک دل نشین آئینہ ہے۔ جب تک انسان اپنے وجود کی خامیوں سے غافل رہتا ہے، وہ دنیا بھر کے عیب اور خوبیاں ناپنے میں لگا رہتا ہے۔ مگر جونہی نگاہ اپنے گریبان کی طرف مڑتی ہے اور انسان کو اپنی کمزوریوں کا ادراک ہوتا ہے، دل سے تمام فیصلے اور گلے مٹ جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے صرف ہمدردی بچتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.