“I longed to hold them fast, unwilling to let go though life itself should part; I tried a hundred thousand wiles, ten million spells—yet they stayed not, stayed not, stayed not, stayed not.”
میں نے چاہا تھا کہ اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اسے روک لوں اور جانے نہ دوں۔ میں نے لاکھ فریب اور کروڑوں جادو ٹونے کیے، مگر پھر بھی وہ نہ رکا۔
اس شعر میں محبوب کو روکنے کی ایک ایسی دلخراش اور بے بس تڑپ ہے جہاں عاشق اپنی جان نچھاور کرنے پر بھی راضی تھا۔ اس نے محبوب کے قدم روکنے کے لیے ہزاروں جتن کیے، محبت کے فریب اور جادو جیسے فسوں تک آزمائے، مگر جدائی کے سامنے کوئی تدبیر کام نہ آئی۔ آخر میں 'نہ رہا' کی پردرد تکرار اس ویرانی اور خالی پن کا نوحہ ہے جو کسی کے چلے جانے کے بعد دل کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے گونجتا رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
