مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگر ملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگ حنا نہ رہا

“If my beloved would answer me plain, weeping tears of blood I would ask in pain: Whose tearful eyes rubbed against your feet, that on your soles no henna stains remain?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگر میرا محبوب مجھے صاف صاف بتا دے تو میں خون کے آنسو روتے ہوئے یہ پوچھوں کہ کس کی نم آنکھیں آپ کے قدموں پر رگڑی گئی ہیں کہ آپ کے تلووں پر مہندی کا رنگ باقی نہیں رہا۔

تشریح

اس شعر میں محبت کی جلن اور رشک کی ایک بے حد نازک اور درد بھری تصویر کھینچی گئی ہے۔ محبوب کے تلووں سے حنا کا رنگ اڑا دیکھ کر عاشق خون کے آنسو روتے ہوئے پوچھتا ہے کہ وہ کون خوش نصیب تھا جس کی نم آنکھوں نے آپ کے قدموں کو چھو کر یہ رنگ مٹا ڈالا۔ مہندی کے دھل جانے جیسی باریک بات کو شاعر نے بے وفائی کے شبہے اور دل کی گہری تڑپ سے کمال خوبصورتی سے جوڑ دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.