“Once I cast aside the veil of my own self, that divide between us was no more; no longer hidden stays the Veiled Beloved, for none remains now save the One.”
جب میں نے اپنی خودی یعنی انا کو مٹا دیا تو ہمارے درمیان حائل پردہ ختم ہو گیا۔ اب وہ پردہ نشیں بھی پردے میں نہیں رہا، کیونکہ اب اس کے سوا کوئی دوسرا باقی ہی نہیں رہا۔
یہ شعر تصوف کے اس نازک راز کو کھولتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان سب سے بڑا حجاب دراصل اس کی اپنی انا یعنی 'خودی' ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جیسے ہی ہم نے اپنی 'میں' کی دیوار گرائی، تو وہ پردہ جو جدائی کا سبب بنا ہوا تھا، خود بخود مٹ گیا۔ جب دوئی کا یہ گماں ختم ہوا، تو وہ پردہ نشیں محبوب ہر سو آشکار ہو گیا اور اب اس ایک ذات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
