“After many days that sun-faced beauty shone resplendent before my eyes today; not a trace of patience or peace was left in me, nor did any veil of modesty remain with her.”
کئی دنوں کے بعد آج جب وہ سورج جیسے چہرے والا محبوب میرے سامنے جلوہ گر ہوا، تو نہ مجھ میں ذرا بھی صبر و قرار رہا اور نہ ہی اُسے شرم و حیا کا کوئی پاس رہا۔
یہ شعر ایک طویل جدائی کے بعد محبوب کے سامنے آنے اور دونوں طرف کی بے قابو جذباتی کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ جب وہ آفتاب جیسا روشن چہرہ رکھنے والا محبوب اچانک روبرو ہوا تو عاشق کا صبر و ہوش اڑ گیا اور خود محبوب کے دل سے بھی جھجک اور شرم کا پردہ ہٹ گیا۔ یہاں وصال کا ایک ایسا والہانہ لمحہ کھینچا گیا ہے جہاں ساری حدیں اور خاموشیاں محبت کے وفور میں پگھل جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
