غزل
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن اور نورانی رخسار کی مدح سرائی پر مبنی ہے، جس کے دیدار کو شاعر مطلعِ انوار کے مطالعے سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس میں محبوب کے جلووں کی تابناکی اور عاشق کے دل کی بے خودی و وارفتگی کو نہایت دلکش اور پروقار انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
देखना हर सुब्ह तुझ रुख़्सार का
है मुताला मतला-ए-अनवार का
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع انوار کا
ہر صبح تمہارے رخسار کو دیکھنا گویا نور اور روشنیوں کے طلوع ہونے کی جگہ کا مطالعہ کرنا ہے۔
2
बुलबुल ओ परवाना करना दिल के तईं
काम है तुझ चेहरा-ए-गुल-नार का
بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں
کام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا
دل کو بیک وقت بلبل اور پروانہ بنا دینا تمہارے سرخ گلنار چہرے کا ہی کام ہے۔
3
सुब्ह तेरा दर्स पाया था सनम
शौक़-ए-दिल मोहताज है तकरार का
صبح تیرا درس پایا تھا صنم
شوق دل محتاج ہے تکرار کا
اے محبوب، صبح تیرا دیدار ہوا تھا، لیکن میرے دل کا شوق تجھے بار بار دیکھنے کا محتاج ہے۔
4
माह के सीने उपर ऐ शम्अ-रू
दाग़ है तुझ हुस्न की झलकार का
ماہ کے سینے اپر اے شمع رو
داغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا
اے شمع جیسے روشن چہرے والے محبوب! چاند کے سینے پر جو داغ دکھائی دیتا ہے، وہ دراصل تیرے حسن کی چمک اور تابش کا ہی نشان ہے۔
5
दिल कूँ देता है हमारे पेच-ओ-ताब
पेच तेरे तुर्रा-ए-तर्रार का
دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب
پیچ تیرے طرۂ طرار کا
تمہاری شوخ اور پُر فریب زلف کا بل دار خم ہمارے دل کو بے چینی اور تڑپ میں مبتلا کرتا ہے۔
6
जो सुन्या तेरे दहन सूँ यक बचन
भेद पाया नुस्ख़ा-ए-असरार का
جو سنیا تیرے دہن سوں یک بچن
بھید پایا نسخۂ اسرار کا
جس کسی نے بھی تیرے منہ سے ایک بات سن لی، اس نے رازوں کی کتاب کا بھید جان لیا۔
7
चाहता है इस जहाँ में गर बहिश्त
जा तमाशा देख उस रुख़्सार का
چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت
جا تماشا دیکھ اس رخسار کا
اگر تم اس دنیا میں جنت چاہتے ہو، تو جا کر محبوب کے رخسار کا نظارہ کرو۔
8
आरसी के हाथ सूँ डरता है ख़त
चोर कूँ है ख़ौफ़ चौकीदार का
آرسی کے ہاتھ سوں ڈرتا ہے خط
چور کوں ہے خوف چوکیدار کا
چہرے کا خط (روئیں) آئینے سے اسی طرح ڈرتا ہے جیسے چور کو چوکیدار کا خوف ہوتا ہے۔
9
सर-कशी आतिश-मिज़ाजी है सबब
नासेहों को गर्मी-ए-बाज़ार का
سرکشی آتش مزاجی ہے سبب
ناصحوں کو گرمئ بازار کا
میری سرکشی اور تیز مزاجی ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث نصیحت کرنے والوں کا بازار گرم رہتا ہے اور ان کا کاروبار خوب چلتا ہے۔
10
ऐ 'वली' क्यूँ सुन सके नासेह की बात
जो दिवाना है परी-रुख़्सार का
اے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی بات
جو دوانا ہے پری رخسار کا
اے ولی! جو شخص کسی پری جیسے چہرے والے محبوب کے عشق میں دیوانہ ہو، وہ بھلا نصیحت کرنے والے کی بات کیسے سن سکتا ہے؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
