“To make of the heart both nightingale and moth / Is the miracle wrought by your rose-flame face.”
دل کو بیک وقت بلبل اور پروانہ بنا دینا تمہارے سرخ گلنار چہرے کا ہی کام ہے۔
شاعر محبوب کے چہرے کو ’گُل نار‘ یعنی انار کے پھول جیسا سُرخ اور شعلے کی طرح روشن قرار دیتا ہے۔ چونکہ یہ چہرہ گل (پھول) بھی ہے اور نار (آگ) بھی، اس لیے عاشق کا دل بیک وقت بلبل بن کر چہکتا ہے اور پروانہ بن کر اس پر جل مرنے کو تیار رہتا ہے۔ یہ شعر محبوب کے حسن کے اس طلسم کو بیان کرتا ہے جو دل کو ترانہ خوانی اور جانثاری دونوں پر مجبور کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
