“Though I caught a glimpse of you this morning, my love, the heart's desire ever pleads for repetition.”
اے محبوب، صبح تیرا دیدار ہوا تھا، لیکن میرے دل کا شوق تجھے بار بار دیکھنے کا محتاج ہے۔
شاعر یہاں محبت کی اس معصوم بے قراری کا ذکر کر رہے ہیں جہاں محبوب کا دیدار کبھی بھی کافی نہیں ہوتا۔ ابھی صبح ہی تو محبوب کی قربت اور جلوے کا سبق ملا تھا، مگر دل کا شوق ایسا پیاسا ہے کہ وہ بار بار اسی حسین لمحے کے دہرائے جانے کا تقاضا کر رہا ہے۔ یہ شعر عاشق کے دل کی اس تڑپ کو سمیٹتا ہے جہاں ہر ملاقات اگلی ملاقات کی طلب کو اور بڑھا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
