“My fiery temper and rebellion are the reason why / The preachers' market thrives and their demand runs high.”
میری سرکشی اور تیز مزاجی ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث نصیحت کرنے والوں کا بازار گرم رہتا ہے اور ان کا کاروبار خوب چلتا ہے۔
شاعر یہاں شوخ انداز میں ناصحوں پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے وعظ و نصیحت کی دکان داری صرف ہم جیسے سرکشوں کے دم پر چل رہی ہے۔ اگر عاشق کا مزاج آتشی نہ ہو اور وہ بغاوت نہ کرے، تو ان ناصحوں کے بازار میں ایسی گرمی اور گہما گہمی کبھی نہ ہو پائے۔ یہ شعر خود پسند اصلاح کاروں پر ایک خوبصورت چوٹ ہے، جو دراصل دوسروں کی لغزشوں اور جنون ہی سے اپنی اہمیت کشید کرتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
