اے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی بات جو دوانا ہے پری رخسار کا

“O Vali, why would he ever heed the counselor's plea, he who is crazed with love for a fairy-faced beauty?”

— ولی دکنی
معنی

اے ولی! جو شخص کسی پری جیسے چہرے والے محبوب کے عشق میں دیوانہ ہو، وہ بھلا نصیحت کرنے والے کی بات کیسے سن سکتا ہے؟

تشریح

ولیؔ دکنی اس شعر میں عشق کی اس دیوانگی کو بڑے دل نشین انداز میں بیان کرتے ہیں جہاں عقل کی ہر نصیحت بے اثر ہو جاتی ہے۔ ’ناصح‘ دنیا داری اور ہوش مندی کا نمائندہ ہے، لیکن محبت کے راستے میں دنیا کی منطق کام نہیں کرتی۔ جس انسان کا دل کسی پری چہرہ محبوب کے سحر میں گرفتار ہو چکا ہو، اس کے لیے مصلحت اور عقل مندی کی باتیں سننا بالکل ناممکن ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10