“To gaze each morning upon the radiance of your face / Is to study the dawn-horizon of all celestial lights.”
ہر صبح تمہارے رخسار کو دیکھنا گویا نور اور روشنیوں کے طلوع ہونے کی جگہ کا مطالعہ کرنا ہے۔
شاعر اس شعر میں محبوب کے چہرے کو کائنات کے تمام نور کا منبع قرار دیتا ہے۔ اس کے لیے صبح دم محبوب کے روشن رخسار کو دیکھنا دراصل ان تمام روشنیوں کے سرچشمے کا مطالعہ کرنا ہے جہاں سے دنیا کا سارا اجالا پھوٹتا ہے۔ عاشق کے نزدیک اصل سویرا آسمانی سورج کے نکلنے سے نہیں، بلکہ اپنے محبوب کے دلکش دیدار اور اس کے حسن کی تجلی سے ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
