غزل

ہونا عاشق سچ کر اس دشمن ایمان کا

ہونا عاشق سچ کر اس دشمن ایمان کا
شیخ ابراہیم ذوق· Ghazal· 11 shers

Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
होना आशिक़ सच कर इस दुश्मन-ए-ईमान का दिल न कर जल्दी कि जल्दी काम है शैतान का
ہونا عاشق سچ کر اس دشمن ایمان کا دل نہ کر جلدی کہ جلدی کام ہے شیطان کا
اس دشمنِ ایمان کا عاشق ہونا سچ کر دکھا، مگر دل کو جلدی نہ کر، کیونکہ جلدی شیطان کا کام ہے۔
2
झूट ही जानूँ कलाम इस हर्ज़ा-बयान का सुन कर बारे में वो आए अगर क़ुरआन का
جھوٹ ہی جانوں کلام اس ہرزہ بیان کا سن کر بارے میں وہ آئے اگر قرآن کا
میں اس بے کار بکنے والی زبان کے کلام کو جھوٹ ہی سمجھوں، مگر اگر وہ اُس کے بارے میں کچھ کہے تو اُسے قرآن کی طرح سچ مانوں۔
3
तो हमारी ज़िंदगी पर ज़िंदगी की क्या उम्मीद तो हमारी जान को बन आया भरोसा जान का
تو ہماری زندگی پر زندگی کی کیا اُمید تو ہماری جان کو بن آیا بھرو سہ جان کا
تب ہماری زندگی پر زندگی کی کیا اُمید رہ جاتی ہے؛ تب ہماری جان کو تو جان ہی کا بھروسہ بن آیا۔
4
जो दिल-ए-पुर-आरज़ू से निकला नाला इश्क़ में एक पुतला था सरापा हसरत-ओ-हिर्मान का
جو دل پر آرزو سے نکلا نالہ عشق میں ایک پتلا تھا سراپا حسرت و حرمان کا
عشق میں آرزوؤں سے بھرے دل سے جو نالہ اٹھا، وہ سر سے پاؤں تک حسرت اور ناامیدی سے بنی ہوئی ایک مورت تھا۔
5
बन गया जोश-ए-मोहब्बत से हमारे सीना में माही-ए-दरिया-ए-ख़ून जौहर तिरे पैकान का
بن گیا جوش محبت سے ہمارے سینہ میں ماہی دریائے خون جو ہر ترے پیکان کا
ہمارے سینے میں محبت کے جوش سے تیرے تیر کی نوک کی چمک خون کے دریا میں تیرتی ہوئی مچھلی بن گئی۔
6
जो फ़रिश्ते करते हैं कर सकता है इंसान भी पर फ़रिश्तों से न हो जो काम है इंसान का
جو فرشتے کرتے ہیں کر سکتا ہے انسان بھی پر فرشتوں سے نہو جو کام ہے انسان کا
جو کام فرشتے کرتے ہیں وہ انسان بھی کر سکتا ہے؛ مگر جو کام فرشتوں سے نہیں ہو سکتا، دراصل وہی انسان کا کام ہے۔
7
ये तप-ए-ग़म की है शिद्दत इस तिरे बीमार को यौम-ए-राहत भी है जिन्हें उसके दिन बोहरान का
یہ تپ غم کی ہے شدت اس ترے بیمار کو یوم راحت بھی ہے جنھیں اسکے دن بحران کا
تیرے اس بیمار پر غمِ عشق کے بخار کی ایسی شدت ہے کہ جو دن اس کے لیے راحت و آرام کے ہونے چاہییں، وہ بھی اس کے مرض کے بحران کے دن بن جاتے ہیں۔
8
इसे अजल तकलीफ़ मत को क्या करेगी आकर हो चुका पहले ही मैं कुश्ता किसी की आन का
اسے اجل تکلیف مت کو کیا کرے گی آکر ہو چکا پہلے ہی میں کشتہ کسی کی آن کا
موت اسے تکلیف نہ دے—آ کر وہ کیا کر لے گی؟ میں تو پہلے ہی کسی کے ناز و انداز کا مارا ہوا ہوں۔
9
हो सके आलूदा-दामन पाक-दामन किस तरह ऐ ज़ुलैख़ा छोड़ दामन यूसुफ़-ए-कनआन का
ہو سکے آلودہ دامن پاکدامن کسطرح اے زلیخا چھوڑ دامن یوسف کنعان کا
جس کا دامن داغدار ہو وہ پاکدامن کیسے کہلا سکتا ہے؛ اس لیے اے زلیخا، یوسفِ کنعان کا دامن چھوڑ دے۔
10
नफ़्स-ए-बे-मिक़दार को क़ुदरत हो गर थोड़ी भी देख फिर दावा फ़िरऔन-ए-बे-सामान का
نفس بے مقدار کو قدرت ہو گر تھوڑی بھی دیکھ پھر دعویٰ فرعون بے سامان کا
اگر حقیر اور بے وقعت نفس کو تھوڑی سی بھی طاقت مل جائے تو پھر دیکھ کہ بے سروسامان فرعون کس طرح خدائی کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔
11
देखना ऐ ज़ौक़ होंगे आज फिर लाखों के ख़ून फिर चबाया उस ने लब पे पान का
دیکھنا اے ذوق ہونگے آج پھر لاکھوں کے خون پھر چبایا اُس نے لب پہ پان کا
دیکھو اے ذوق، آج پھر لاکھوں لوگوں کا خون ہوگا، کیونکہ اُس نے ایک بار پھر اپنے لبوں پر پان چبایا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.