تو ہماری زندگی پر زندگی کی کیا اُمید — شیخ ابراہیم ذوق
“Then what hope of life can rest upon this life of ours; Then our very soul found its trust in the soul itself.”
معنی
تب ہماری زندگی پر زندگی کی کیا اُمید رہ جاتی ہے؛ تب ہماری جان کو تو جان ہی کا بھروسہ بن آیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر زندگی اور بھروسے کے درمیان ایک نازک رشتہ بُنتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب ہماری اپنی زندگی ہی اتنی کمزور اور بے ثبات ہے تو اُس پر مزید زندگی کی کیا اُمید رکھی جائے؟ دوسرے مصرعے میں ایک گہری بات ہے — جب ہماری جان پر مشکل وقت آیا، تبھی کسی اپنے پر، کسی جان پر سچا بھروسہ جاگا۔ یعنی آزمائش کے لمحوں میں ہی حقیقی اعتبار کی پہچان ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
