ہو سکے آلودہ دامن پاکدامن کسطرح — شیخ ابراہیم ذوق
“How can one with a stained garment ever be called pure of robe— O Zulaikha, let go the garment of Yusuf of Canaan.”
معنی
جس کا دامن داغدار ہو وہ پاکدامن کیسے کہلا سکتا ہے؛ اس لیے اے زلیخا، یوسفِ کنعان کا دامن چھوڑ دے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر زلیخا اور یوسف کی مشہور داستان کو برتتا ہے، جہاں 'دامن' پاکیزگی اور آبرو کی علامت ہے۔ لطیف طنز یہ ہے کہ جس کا اپنا دامن داغدار ہو وہ پاک دامن کیسے کہلائے—سو یوسف کا دامن تھامے رہنا الزام کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ اس کہانی کے پردے میں خواہش اور وقار، عشق کی تڑپ اور دامنِ عصمت کے درمیان ایک نازک کشمکش بیان ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
