جھوٹ ہی جانوں کلام اس ہرزہ بیان کا — شیخ ابراہیم ذوق

جھوٹ ہی جانوں کلام اس ہرزہ بیان کا سن کر بارے میں وہ آئے اگر قرآن کا

“I would deem false the words of this idle, prattling tongue of mine— Yet should it bear report of Him, let it speak as the Qur'an's line.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میں اس بے کار بکنے والی زبان کے کلام کو جھوٹ ہی سمجھوں، مگر اگر وہ اُس کے بارے میں کچھ کہے تو اُسے قرآن کی طرح سچ مانوں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنی ہی زبان کو جھوٹی اور بے معنی باتیں کرنے والی کہہ کر ملامت کرتا ہے۔ مگر پھر ایک نازک موڑ آتا ہے — اگر یہی ہرزہ بیان زبان محبوب یا خدا کے بارے میں کچھ کہے تو وہی بات قرآن کی آیت کی طرح مقدس اور سچی ہو جاتی ہے۔ یہاں خوبصورت بات یہ ہے کہ محبوب کا ذکر ہر شے کو پاک کر دیتا ہے، حتیٰ کہ جھوٹی زبان بھی اُس کے نام سے سچی بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.