جو دل پر آرزو سے نکلا نالہ عشق میں — شیخ ابراہیم ذوق

جو دل پر آرزو سے نکلا نالہ عشق میں ایک پتلا تھا سراپا حسرت و حرمان کا

“The lament that rose from my desire-filled heart in love Was a figure shaped from head to foot of longing and despair.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

عشق میں آرزوؤں سے بھرے دل سے جو نالہ اٹھا، وہ سر سے پاؤں تک حسرت اور ناامیدی سے بنی ہوئی ایک مورت تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب اُس کے آرزوؤں سے بھرے دل سے عشق کی کوئی آہ نکلی تو وہ کوئی معمولی سسکی نہ تھی۔ وہ نالہ گویا حسرت اور نااُمیدی کا ایک پورا جیتا جاگتا پتلا تھا — سر سے پاؤں تک صرف تڑپ اور محرومی سے گھڑا ہوا۔ شاعر اپنے درد کو اتنا گہرا دکھاتا ہے کہ اُس کی ایک آہ میں اُس کی ساری ناکام خواہشوں کا وجود سمٹ آیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.