اسے اجل تکلیف مت کو کیا کرے گی آکر — شیخ ابراہیم ذوق
“Let death not trouble this one—what will it achieve by coming? I was already slain, long since, by the pride of a certain someone.”
معنی
موت اسے تکلیف نہ دے—آ کر وہ کیا کر لے گی؟ میں تو پہلے ہی کسی کے ناز و انداز کا مارا ہوا ہوں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر موت کو نرمی سے روک دیتا ہے کہ اب تیرے آنے سے کیا حاصل، میرا کام تو پہلے ہی ہو چکا۔ اصل قاتل موت نہیں بلکہ محبوب کا ناز اور اس کی ایک ادا ہے جس نے مجھے 'کشتہ' یعنی مقتول بنا دیا۔ کتنی خوبصورت بات ہے کہ عشق کی چوٹ موت سے بھی پہلے جان لے لیتی ہے، اور محبوب کا غرور ہی سب سے کاری زخم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
