بن گیا جوش محبت سے ہمارے سینہ میں — شیخ ابراہیم ذوق
“Within my breast, stirred by the fervor of our love, it came to be— the blade-tip's temper, turned a fish that swims a river of blood in me.”
معنی
ہمارے سینے میں محبت کے جوش سے تیرے تیر کی نوک کی چمک خون کے دریا میں تیرتی ہوئی مچھلی بن گئی۔
تشریح
شاعر تصور کرتا ہے کہ محبوب کے تیر کی نوک اس کے سینے میں پیوست ہے، اور محبت کے جوش سے اس کا سینہ خون کا دریا بن گیا ہے۔ تیر کی نوک پر کھنچی ہوئی لکیریں (جوہر) ایسی لگتی ہیں جیسے اس خونی دریا میں کوئی مچھلی تیر رہی ہو۔ یہ درد اور زخم کو حسن میں بدلنے کا ایک دلکش انداز ہے — عاشق اپنی تکلیف پر ماتم نہیں کرتا بلکہ اسے فخر اور خوبصورتی کا منظر بنا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
