غزل

دیکھکر زلفِ سیہ مفتون و شیدا ہو گیا

دیکھکر زلفِ سیہ مفتون و شیدا ہو گیا

یہ غزل محبوب کی سیاہ زلفوں کے سحر اور عشق کی وارفتگی کا پرتاثیر بیان ہے۔ شاعر حسن کے جلوے سے مسحور ہو کر اپنے ہوش و حواس، صبر اور قرار گنوا بیٹھتا ہے اور عشق کے سودے میں تنہائی و خود فراموشی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

Source: Divan-e-Turab · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
देखकर ज़ुल्फ़-ए-सियह मफ़्तून-ओ-शैदा हो गया अमील-ए-दीवाना क्या मुझको ये सौदा हो गया
دیکھکر زلفِ سیہ مفتون و شیدا ہو گیا امیلِ دیوانہ کیا مجھکو یہ سودا ہو گیا
سیاہ زلفوں کو دیکھ کر میں ان پر عاشق اور دیوانہ ہو گیا؛ مجھ دیوانے پر یہ کیسا جنون اور عجیب سودا سوار ہو گیا ہے۔
2
अक़्ल-ओ-होश-ओ-सब्र-ओ-तस्कीन हम हो शैदा तेज़ हाए सबाथी मेरी मुझसे मैं तन्हा हो गया
عقل و ہوش و صبر و تسکین ہم ہو شیدا تیز ہائے سباتھی مری مجھسے میں تنہا ہو گیا
عقل، ہوش، صبر اور سکون سب مجھ سے تیزی سے رخصت ہو گئے؛ افسوس کہ میرے تمام ساتھی مجھ سے جدا ہو گئے اور میں اکیلا رہ گیا۔
3
यार-ओ-मेरा रंग कचरा-ओ-सिपर न आया अब तलक मैं तो ओसको इश्क़ में रंगीन सरापा हो गया
یار و میرا رنگ کچرا و سپر نہ آیا اب تلک میں تو اوسکو عشق میں رنگین سراپا ہو گیا
اے دوستو! ابھی تک میرا رنگ سنور نہیں سکا، جبکہ میں اُس کے عشق میں سر سے لے کر پاؤں تک مکمل طور پر رنگین ہو چکا ہوں۔
4
किसतरह यारीसे ओसकी मुझको बेज़ारी नहो आशना ग़ैर वनसे अबतो यार-ए-मेरा हो गया
کسطرح یاریسے اوسکی مجھکو بیزاری نہو آشنا غیر ونسے ابتو یارِ میرا ہو گیا
مجھے اس کی دوستی سے کیوں بیزاری نہ ہو، جبکہ میرا محبوب اب غیروں سے آشنا اور گھل مل گیا ہے۔
5
जो मैं मजलिस मेरी कल वुठ गया वो सर्व-क़द जुमा क़यामत आ गई और हश्र बरपा हो गया
جو میں مجلس مری کل وُٹھ گیا وہ سروقد جمعہ قیامت آگئی اور حشر برپا ہو گیا
کل جیسے ہی وہ سرو قد محبوب میری محفل سے اٹھ کر گیا، تو گویا قیامت آ گئی اور حشر برپا ہو گیا۔
6
रातियां पर चांद कहदीम सका कि उहो सच्चा शोख़ लगे मुंह देखने तुर्फ़ा तमाशा हो गया
راتیاں پر چاند کہدیم سکا کہ اُہو سچا شوخ لگے منہ دیکھنے طرفہ تماشا ہو گیا
رات کو چاند کے سامنے جب میں نے کہہ دیا کہ اصل میں میرا محبوب ہی سچا شوخ اور حسین ہے، تو وہ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور ایک عجیب تماشا بن گیا۔
7
छा गया आंखो में नशा भर गया दिल में दुख ग़म नहीं गर्मी से ख़ाली जाम-ओ-मीना हो गया
چھا گیا آنکھو میں نشہ بھر گیا دل میں دُکھ غم نہیں گرمی سے خالی جام و مینا ہو گیا
آنکھوں پر نشہ چھا گیا ہے اور دل دکھ سے بھر گیا ہے، اب کوئی رنج نہیں اگر گرمی کی شدت سے پیالہ اور صراحی خالی ہو گئے ہیں۔
8
क़ुम बि-इज़्नी कहको आशिक़ को जिला देता हो वो क़ुम बि-इज़्न्निल्लाह एजाज़-ए-मसीहा हो गया
قم باذنی کہکو عاشق کو جلا دیتا ہو وہ قم باذن اللہ اعجازِ مسیحا ہو گیا
اگر محبوب 'میرے حکم سے زندہ ہو جا' کہہ کر عاشق کو جلا بخشتا ہے، تو 'اللہ کے حکم سے جی اٹھ' کہنا تو محض حضرت عیسیٰ کا معجزہ تھا۔
9
हुस्न-ए-ख़िदमत से हुआ महमूद का प्यारा अयाज़ इसक़दर की बंदगी ओसने कि मौला हो गया
حُسنِ خدمت سے ہوا محمود کا پیارا ایاز اسقدر کی بندگی اوسنے کہ مولا ہو گیا
ایاز اپنی بہترین خدمت گزاری کی بدولت محمود کا محبوب بن گیا، اس نے اس درجے کی بندگی اور وفاداری کی کہ وہ خود آقا کے مقام پر پہنچ گیا۔
10
हाथ ओन्का चूमें तो मैं दस्त-ए-बोसी सुब्ह वाह क्या दस्त-ए-मशाइख़ यद-ए-बैज़ा हो गया
ہاتھ اونکا چومیں تو میں دستِ بوسی صبح واہ کیا دستِ مشائخ ید بیضا ہو گیا
جب میں صبح عقیدت سے ان کا ہاتھ چومتا ہوں، تو کیا خوب کہ اس بزرگ کا ہاتھ حضرت موسیٰ کے چمکتے ہوئے معجزاتی ہاتھ (یدِ بیضا) کی مانند روشن ہو گیا۔
11
क्या हुआ अगर हुस्न में शोहरत हुई उसकी तुराब मैं तो ओसके इश्क़ में बदनाम रुस्वा हो गया
کیا ہوا اگر حُسن میں شہرت ہوئی اُسکی تراب میں تو اوسکے عشق میں بدنام رسوا ہو گیا
اے تراب، اگر وہ اپنے حسن کی وجہ سے مشہور ہو گئی تو کیا ہوا، میں تو اس کی محبت میں بدنام اور رسوا ہو گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.