“When at dawn I bowed to kiss their hand in humble devotion, / Ah, how that revered elder's palm turned into Moses' miraculous hand of light!”
جب میں صبح عقیدت سے ان کا ہاتھ چومتا ہوں، تو کیا خوب کہ اس بزرگ کا ہاتھ حضرت موسیٰ کے چمکتے ہوئے معجزاتی ہاتھ (یدِ بیضا) کی مانند روشن ہو گیا۔
اس شعر میں عقیدت اور محبت کا ایک نہایت دلکش اور پرنور منظر باندھا گیا ہے۔ صبح سویرے جب کسی بزرگ یا محبوب کے دستِ مبارک کو چومنے کی سعادت ملی، تو وہ ہاتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے 'یدِ بیضا' کی طرح چمک اٹھا۔ شاعر نے احترام کی پاکیزگی کو اس سادگی سے بیان کیا ہے کہ عقیدت کا ایک لمحہ بھی روحانی روشنی اور کرامت میں ڈھل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
