“Beholding those raven tresses, I became bewitched and enamored; what madness is this strange obsession that has taken hold of me?”
سیاہ زلفوں کو دیکھ کر میں ان پر عاشق اور دیوانہ ہو گیا؛ مجھ دیوانے پر یہ کیسا جنون اور عجیب سودا سوار ہو گیا ہے۔
اردو شاعری میں محبوب کی سیاہ زلفوں کو ایک دلکش دام اور رات کے اندھیرے جیسا پُراسرار استعارہ مانا گیا ہے جو دل کو اسیر کر لیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ان کالی زلفوں کی ایک جھلک دیکھتے ہی وہ بے خود اور دیوانہ ہو گیا، اور اب اپنی عقل پر اس کا کوئی بس نہیں رہا۔ خود سے یہ پوچھنا کہ 'یہ مجھے کیسا سودا ہو گیا'، دراصل عشق کی اس وارفتگی اور میٹھی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے جہاں دل کے ہاتھوں ہوش و حواس لاچار ہو جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
