“Reason and senses, patience and peace, all fled in breathless haste; alas, every companion parted from me, leaving me utterly alone.”
عقل، ہوش، صبر اور سکون سب مجھ سے تیزی سے رخصت ہو گئے؛ افسوس کہ میرے تمام ساتھی مجھ سے جدا ہو گئے اور میں اکیلا رہ گیا۔
اس خوبصورت شعر میں شاعر نے عقل، ہوش، صبر اور دلی سکون کو اپنے وفادار ساتھیوں کے روپ میں پیش کیا ہے۔ مگر عشق کے جنون یا درد کے طوفان میں یہ اندرونی سہارے ایک ایک کر کے تیزی سے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہاں تنہائی کا اصل المیہ باہر کی دنیا سے کٹ جانا نہیں، بلکہ اپنے ہی حواس اور اپنے وجود کے ہاتھوں تنہا چھوڑ دیے جانا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
