“How could I not grow weary of his friendship and despair, now that my beloved makes strangers his intimates to share?”
مجھے اس کی دوستی سے کیوں بیزاری نہ ہو، جبکہ میرا محبوب اب غیروں سے آشنا اور گھل مل گیا ہے۔
اس شعر میں شاعر محبت میں غیروں کی قربت سے پیدا ہونے والے رنج اور بیزاری کو بڑی سادگی سے بیان کر رہا ہے۔ جب محبوب غیروں کو اپنا رازدار اور آشنا بنا لے، تو دل خودبخود اس کی یاری سے اچاٹ اور اداس ہو جاتا ہے۔ یہ شکوہ دراصل محبت کے اس نازک احساس کا مرثیہ ہے، جہاں غیروں کی دخل اندازی محبوب کی قربت کو بھی بوجھل بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
